اداریے (3) – مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ میں شائع ہونے والےاداریے : بقلم حافظ طیب نواز شہید رحمة الله عليہ

اداریے (3) – مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ میں شائع ہونے والےاداریے : بقلم حافظ طیب نواز شہید رحمة الله عليہ

 

 

بِسْـمِ اللہِ الرَّحْمٰــنِ الرَّحِـیْم

مجلّہ’ نوائے افغان جہاد‘ میں شائع ہونے والےاداریے

جنوری ۲۰۱۱ء تا دسمبر ۲۰۱۱ء

بقلم: حافظ طیّب نواز شہید رحمة الله عليہ

 

فہرستِ مضامین

حرفِ اوّل. 6

از مدیر. 6

وہ دیکھو مجاہد مسلمان دیکھو. 8

اداریہ: جنوری ۲۰۱۱ ء ؍ صفر ۱۴۳۲ ھ. 8

در دِلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ است.. 11

اداریہ: فروری ۲۰۱۱ء ؍ ربیع الاول ۱۴۳۲ ھ. 11

جب کفر سے دِیں کی ٹکر تھی تو تم نے کس کا ساتھ دیا؟ 14

اداریہ: مارچ ۲۰۱۱ء ؍ ربیع الثانی ۱۴۳۲ ھ. 14

تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا 17

اداریہ: اپریل ۲۰۱۱ء ؍ جمادی الاول ۱۴۴۱ ھ. 17

حق پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے.. 20

اداریہ: مئی ۲۰۱۱ء ؍ جمادی الثانی ۱۴۳۲ ھ. 20

قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر. 23

اداریہ: جون و جولائی ۲۰۱۱ء ؍ رجب و شعبان ۱۴۳۲ ھ. 23

فضائے بدر پیدا کر! 26

اداریہ: اگست ۲۰۱۱ء ؍ رمضان المبارک ۱۴۳۲ ھ. 26

تھا اپنی طاقت پہ ناز جن کو ،وہ بُرج سارے الٹ چکے ہیں. 28

اداریہ: ستمبر و اکتوبر ۲۰۱۱ء ؍ شوال و ذو القعدہ ۱۴۳۲ ھ. 28

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا……… 32

اداریہ: نومبر ۲۰۱۱ء ؍ ذو الحجہ ۱۴۳۲ ھ. 32

ہوئے غرقِ دریا زیر ِدریا تیرنے والے.. 35

اداریہ: دسمبر ۲۰۱۱ء ؍ محرم الحرام ۱۴۳۳ ھ. 35

حرفِ اوّل

از مدیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ألحمدللہ و کفیٰ و الصلاۃ و السلام علیٰ رسول اللہ، أمّا بعد

بفضل اللہ، ’اِداریے (۱)‘ اور ’اِداریے (۲)‘ کے بعد ’اِداریے (۳)‘ کے عنوان کے تحت، تیسرا مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس دوسرے مجموعے میں جنوری ۲۰۱۱ء سے لے کر دسمبر ۲۰۱۱ء تک کے شماروں میں چھپنے والے اداریے شامل کیے گئے ہیں ۔

یہ اداریے محض کسی مجلّے میں چھپنے والے، ادارے کے موقف کو بیان کرتے ’اداریے‘ نہیں … بلکہ یہ عصرِ حاضر کے جہاد اور اس جہاد کے ساتھ باقی زمانے کی تاریخ پر مبنی ایک نادر اور مختصر سلسلۂ بیان اور تاریخ پر حاشیہ ہیں ۔ جیسا کہ اس مجموعۂ مضامین (اداریے)کے ’سر ورق‘ پر لکھا ہے، یہ تحریرات القاعدہ برِّ صغیر سے وابستہ، جہادِ پاکستان کے ایک عبقری قائد، نابغۂ روزگار ، داعی و مفکر، مربّی و منتظم، شہید فی سبیل اللہ حضرت حافظ طیب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے نکلی ہیں ، اور ان تحریرات میں سیاہی نہیں قلب و جگر کے خون کی روشنائی استعمال ہوئی ہے۔

ان مضامین کو ان کی اصل شکل میں ہی ر کھا گیا ہے، اس لیے اعداد و شمار، تاریخیں ، واقعات و سانحات اور متوفین کے ناموں وغیرہ کے ساتھ وہی انداز و القاب وابستہ ہیں جو دمِ تحریر لکھے گئے تھے۔ کوئی تبدیلی کی گئی ہے تو وہ یہ کہ پروف کی اگر کوئی غلطی رہ گئی تھی تو اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے یا طویل نثر پاروں کو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اگر کسی جگہ آیتِ قرآنی، حدیث یا تاریخی و کتابی عبارت کا حوالہ درج نہیں تھا تو وہ تحریر کر دیا ہے۔ اسی طرح جن جگہوں پر وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہاں ’وضاحتی حاشیہ‘ درج کر دیا گیا ہے، جس کے آگے قوسین میں ’(مرتِّب)‘ کا دستخط درج ہے۔

اللہ پاک ’اداریے‘ کے عنوان کے تحت اس کوشش کو قبول و مقبول فرمائیں اور دعوتِ دین و جہاد کو عام فرمائیں ، آمین یا ربّ العالمین۔

و صلی اللہ علی النبی، و آخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین۔

ربیع الثانی ۱۴۴۱ھ ؍ دسمبر ۲۰۱۹ء

وہ دیکھو مجاہد مسلمان دیکھو

اداریہ: جنوری ۲۰۱۱ ء ؍ صفر ۱۴۳۲ ھ

جہاد فی سبیل اللہ ،اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت ہی زیادہ محبوب عبادت ہے۔جبھی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذروۃسنامہ‘اسلام کی کوہان سے تعبیر کیا اور اونٹ کے دودھ دوہنے کی مدت کے برابر بھی جہاد کرنے والے کو جہنم سے آزادی کی بشارت سنائی اور پھر اس عبادت کی ادائیگی کے دوران اپنی جان سے گزر جانے والے شہید کے فضائل تو مسلمانوں کے بچے بچے کو ازبر ہوتے ہیں۔

جب جہاداس قدر عزت وشرف والاعمل ہے اورا س پر بے پناہ اجروثواب اور اللہ تعالیٰ کی محبت ومغفرت کے وعدے ہیں تو یہ اسی قدر حساس اور نازک عبادت بھی ہے کہ اس میں دنیوی منفعت ،عصبیت اور ریا جیسے رذائل شامل ہوجائیں تو تمام خوش خبریاں‘خسارے کی وعیدوں اورآخرت کی بربادی میں بدل جاتی ہیں۔اسی لیے ہر مجاہد کے لیے ازحد ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت میں اخلاص پیدا کرے اوراللہ تعالیٰ سے ہر لمحہ راہِ جہاد میں استقامت، صبر اور اولوالعزمی سے ڈٹے رہنے کی توفیق طلب کرتا رہے۔

ہر مجاہدکے لیے دل میں عقیدۂ توحید کو اس کی تمام جزئیات کے ساتھ راسخ کرنابہت ضروری ہے۔ قلب و ذہن میں اس یقین کی مسلسل آبیاری کرنا کہ ہماراولی اورمولیٰ صرف ایک اللہ ہے ،اُسی پر ہمارابھروسہ ہے،اُسی سے ہماری تمام امیدیں وابستہ ہیں،اُسی کی نصرت ہمارا سہارا ہے،وہی ہے جو تمام تر قوتوں کا مالک ہے،محض اُسی پر توکل اورکامل توکل ہمارازادِراہ ہے ۔ ہماری تمام تر تگ و دو اورجدوجہد کا مقصدِ وحید صرف اُس کی رضا کا حصول ہونا چاہیے۔یہی ہماری منزل ہے اور اسی منزل کے حصول کے لیے جسم و جان کی تمام توانائیاں اورمال واولاد کی تمام قربانیاں اُس کی راہ میں پیش کرنے میں ہمیں ذرہ برابرتامل نہیں۔توجہ اوردھیان ……دن ،رات اللہ ہی کی ذات کی جانب مرکوز رہے اوراُس کی بڑائی اورعلی کل شئی قدیر ہونے کا تصور تمام تر حسیات میں جاگزیں ہو۔تلاوت اورذکر الٰہی سے زبان ہمیشہ آباد رہے،دل ودماغ پر اللہ کی یاد کی گھٹا چھائی رہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہر کام میں ہمار ی رہنما ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کے مبارک تذکرے ایمان کو نشو نما دیتے ہیں ان کو پڑھنے اور سننے کا اہتمام بہت اہمیت کا حامل ہے۔

مجاہد کی زندگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسوہ میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے باہمی معاملات میں رحماء بینہم کامنظر جھلکتاہے،آپس کے تعلقات میں ہر مجاہد دوسرے مجاہد کے لیے ’احبک فی اللہ‘ کی عملی نظیر پیش کرتا نظر آتا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف ’’المسلم من سلم المسلمون من لسا نہ ویدہ‘‘کے الفاظ مبارکہ ادا فرما کر کی ہے اس لیے ہر لمحے حساس رہنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے کسی قول یا عمل سے کسی مسلمان کوتکلیف نہ پہنچے۔ شریعت نے اس ضمن میں بہت مفصل ہدایات سے نوازا ہے کہ مسلمان کی جان،مال اورعزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک تعلیم فرمائی کہ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی مسلمان کو نہ پہنچا ئی جائے،اسی لیے تو راستے سے تکلیف دہ اشیا کو دورکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس عظیم کام کا تقا ضا ہے کہ ہرمجاہد ہر مسلمان کے لیے اخوت،پیار،ایثاراورقربانی کی مثال کے طور پر جانا اور پہچانا جائے۔

جہاد جیسی اعلیٰ وارفع عبادت کی انجام دہی کے باوجوداگر ہمارا کوئی ایک عمل اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا موجب بنے توخرابیٔ قسمت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا۔لہٰذا اپنے اعمال کا ہروقت جائزہ لیتے رہیں،گناہوں کی آلائشوں سے بچنے ،شیطان ِلعین کے وسوسوں اوراُس کی اکساہٹوں سے اللہ کی پناہ میں آنے اورحقوق المسلم ادا کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہتے ہوئے اپنا احتساب کرتے رہیں۔صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں جب کبھی ایسا موقع آیا کہ دشمن کے خلاف فتح حاصل نہ ہورہی ہو،دشمن کے زیر ہونے میں تاخیر ہورہی ہویااسلامی لشکر کسی جگہ وقتی مشکل کا شکارہواہوتووہ پاکبازہستیاں فوراًاپنے اعمال پر نظر دوڑاتیں ……کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت ِ مطہرہ تو ہم سے نہیں چھوٹ گئی……بس جیسے ہی ذہن سے محو ہوجانے والی سنت کواداکیا……اگلے ہی لمحے اللہ کی نصرت مومنین کی جانب متوجہ ہوئی ۔یاد رکھیں!اللہ سے تعلق کی کمزوری ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں سے غفلت اوراپنے باہمی اخلاق و معاملات کو اللہ کے دین کے مطابق ترتیب دینے میں سستی ہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جونصرتِ الٰہی کے نزول میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔جہاد کے میدانوں میں اللہ کی مدداُسی وقت مجاہدین کے شاملِ حال ہوتی ہے جب وہ خودکو کلیتاً اپنے رب کے سپرد کردیں اوراپنے تمام اعمال و افعال سے پابندِ شریعت ہونے کا ثبوت پیش کریں۔لہٰذا ہر مجاہد اپنے زادِ راہ کا جائزہ لے کہ جنتوں کا سفر ہے اورراستہ طویل !!!…بے شک سعادت وشہادت کی آرزو ہر مجاہد کے دل کو بے کل کیے ہوئے ہے۔اس لیے لقائے رب کے شوق میں دیوانہ وار اس راہ پر چلیں…احکاماتِ شریعت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے…تعلق باللہ کی شمع کونہاں خانۂ دل میں روشن کیے… کہ ربِّ رحمن کی رضا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعتِ کبریٰ ، شہداکے متعلق دی جانے والی بشارتیں اورحوروں کی بستی کے وعدے اِنہی پراگندہ بالوں اورتمام دنیا ئے کفرسے بھِڑ جانے والوں کے لیے ہیں جو پورے شعور کے ساتھ اپنے رب سے وعدہ کرتے ہیں کہ

زندگی میری فقط تیری رضا کے واسطے
اورجاں دے دوں میرے پیارے خدا تیرے لیے

 

در دِلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ است

اداریہ: فروری ۲۰۱۱ء ؍ ربیع الاول ۱۴۳۲ ھ

امتِ مسلمہ کے لیے حرمتِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام موت اورزندگی کا معاملہ ہے اور اس نازک اور اہم مسئلے پر امت کا ایک ایک فرد اپنی جان لُٹا دینے کو فخر خیال کرتا ہے اور اس حساس ایمانی موضوع پر کفار کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے کو سعادت سمجھتا ہے۔تمام صلیبی جنگوں کا مرکزی عنوان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہی تھی اور ہے۔پہلی صلیبی جنگوں میں پوپ اربن دوم نے شکست کو نوشتۂ دیوار دیکھ کر مہتابِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ دہنی کی تھی اور آج بھی صلیبی لشکر کے سپہ سالار محسن ِاعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی زبان ِنجس دراز کرتے ہیں۔

اس بار ماہِ ربیع الاول عزتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کے جذبوں کی عملی عکاسی کرتے ہوئے طلوع ہورہا ہے۔پاکستان میں ممتاز غازی[1] کے عمل نے اس عنوان کے تحت نئے مباحث کو پیدا کیا ہے اور صلیبی لشکروں کو اس بار اس قدر شکست فاش ہوئی ہے کہ اُن کے مرتدفرنٹ لائن اتحای بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’’اگر میرے سامنے کوئی توہین ِ رسالت کرے گا تو میں اُسے قتل کردوں گا‘‘۔بس یہ خوش خبریاں ہیں کہ غلامانِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھوں صلیبی لشکر ڈھیر ہونے کو ہیں۔

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہرزمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑاسرفروشی کے فسانے میں

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امتی اُن ؐ کے نقشِ ہائے قدم کی روشنی سے اپنے کردار کو نکھارے ۔سیرت محمدیؐ ہی اس معرکۂ حق وباطل کا مرکزی عنوان ہے اور اسی کی روشنی میں چلنے والے اپنے رب کی نصرت سے اس معرکے کو سر کرسکیں گے۔سیرت پر علمائے کرام کی لکھی ہوئی کتب سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (مولانا ادریس کاندھلویؒ)،اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ڈاکٹر عبدالحئیؒ)الرحیق المختوم(مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوریؒ)کا دقتِ نظر سے مطالعہ سیرت کے گوشوں کو اپنی عملی زندگی میں سجانے کے لیے بہت موزوں ہوگا۔

آج صلیبی عساکر ہر محاذ پر ہزیمت کوگلے لگانے پر مجبورہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہودونصاریٰ کو مجاہدین کو ہاتھوں ایسی ذلت آمیز ضربیں لگوائی ہیں کہ وہ مجاہدین کے ہاتھوں میدانوں میں تو ذلیل و رسوا ہورہے ہیں لیکن اپنی آتش ِ انتقام کو ٹھنڈاکرنے کے لیے وہ جنوبی سوڈان کوعیسائی ریاست بنانے کا اعلان کررہے ہیں۔اسے عیسائی ریاست بنانے کاعمل پایۂ تکمیل کو پہنچنے کوہے۔صلیبی امریکہ اوراقوامِ متحدہ کی نگرانی میں اس مسلم خطے کو عیسائیوں کے تسلط میں دیا جارہا ہے۔ملعون پوپ بینی ڈکٹ جہاں اسلام اور نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کے حوالے سے زہر اگلتا ہے وہی وہاں عیسائیوں پر ہونے والے ’’مظالم‘‘ کا واویلا بھی کرتا ہے۔لیکن امتِ توحید کے فرزند یہودونصاریٰ کے لشکروں کے مقابل موجود ہیں ۔ امتِ مسلمہ کے یہ بیٹے دنیا بھر میں اللہ کے باغیوں پر پیہم ضربیں لگا رہے ہیں۔یہ مجاہدین ‘نائیجیریا اورمصر میں نصاریٰ پر قہربن کر ٹوٹ رہے ہیں۔

عراق،افغانستان ،صومالیہ اوریمن سے امتیوں کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے ہیں۔فدائی حملے کفر کی بربادی کو قریب سے قریب تر کررہے ہیں اور پاکستان میں بھی ہرآنے والا دن صلیبی لشکروں کی شکست کی نوید لیے ہوئے ہے جبھی تو شمالی وزیرستان میں آپریشن کفر کے حلق کا کانٹا بنا ہوا ہے کہ نہ اگلے بنے نہ نگلے بنے۔اسی خطۂ اسلامی ہند کے بارے میں اقبالؒ نے کہا تھا

میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جدھر سے
میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے

سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منزلوں کا پتہ لگانے والے خوش بخت قافلے کے راہی اپنے رب کی رضا اورجنتوں کی جانب لپک رہے ہیں۔عالمِ کفر کے لیے نامرادیوں کے الٰہی وعدے ہیں اور اللہ تعالیٰ آج یہ وعدے اِنہی مردانِ درویش صفت کے ہاتھوں پورے کروا رہا ہے۔ہر امتی کے لیے راستہ واضح ہوچکا ہے،حرمت ِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کا راستہ اورانہی کٹے پھٹے جسموں کے ساتھ لقائے ربی اورآبِ کوثر کوساقیٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں نوشِ جاں کرنے کا راستہ!!!جسے دامن بھرنے ہوں بھر لے کہ دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کی راہوں پرعشاق کے قافلے کشاں کشاں جانبِ منزل رواں ہیں۔

اللّھم صلی علٰی سیدنا محمّد و علٰی آل سیدنا محمّد کما صلیت علٰی سیدنا ابراھیم و علٰی آل سیدنا ابراھیم انّک حمید مجید اللّھم بارک علٰی سیدنا محمّد و علٰی آل سیدنا محمّد کما بارکت علٰی سیدنا ابراھیم و علٰی آل سیدناابراھیم انّک حمید مجید

جب کفر سے دِیں کی ٹکر تھی تو تم نے کس کا ساتھ دیا؟

اداریہ: مارچ ۲۰۱۱ء ؍ ربیع الثانی ۱۴۳۲ ھ

ایمان جیسی نعمتِ کبریٰ کی قدر اُنہی قلوب کے حامل افراد کو ہوتی ہے ،جو اپنے خالق کے سامنے کھڑے ہونے کے احساس کو روح کی گہرائیوں میں اتارے زندگی کی آزمائش بھری راہوں پر پھونک پھونک کرقدم رکھتے ہیں۔یہ ایمان ہی ہے کہ جب دلوں میں پیوست ہوجائے توآخرت کی فکر،روزِ حشر میں دربارِ الٰہی میں حاضری اور حساب کتاب کی گھڑیوں ہی کے لیے ساری دوڑ دھوپ ہوتی ہے۔یہی ایمان ہے جس کی شمعیں روشن ہوں تو حق و باطل کو پہچاننا اورحق کے راستوں پر استقامت سے چلنا ممکن ہوتا ہے ۔یہی ایمان ہے جو ’ عبدالرحمٰن‘کویہ جرأت وطاقت عطاکرتا ہے کہ وہ شیاطینِ جن و انس کے مقابل سینہ سپرہوجاتا ہے۔یہی ایمان ہے کہ جو سینوں میں جاگزیں ہوتو اللہ کی کبریائی کے اظہارواعلان کے لیے بندۂ مومن دنیا بھر کے طواغیت سے بھِڑنے اورجان سے گزر جانے سے ذرہ برابرتامل نہیں کرتااورپھر اسی کشمکش کوسَرکرتا ہوا اس حال میں اپنے رب کے پاس پہنچتا ہے کہ اُس دربارِ عالی سے بھی یہ پروانہ اُس کے نام جاری ہوتا ہے کہ

؏یہ بندہ دوعالم سے خفامیرے لیے ہے

ایمان کی اسی نعمتِ بے بہا سے افرادِ امت کومحروم کرنے اور اُنہیں دنیا وآخرت کی تہی دامنی کا عنوان بنانے کے لیے ابلیس اوراُس کی ذریت اپنا پورا زور صرف کر رہی ہے۔کبھی ’ویلنٹائن ڈے ‘کے نام پراُن سے بے حیائی کے مظاہرے کروانے کی تگ و دو کی جاتی ہے اور کبھی ’بسنت پالا اڑنت‘ جیسے بے ہودہ ’’موسمی تہوار‘‘ کی صورت میں اُنہیں رب سے دور کرنے اور شیاطین کی قربت مہیا کرنے کا وافر سامان کیاجاتا ہے۔اس سب کے باوجود بھی سفلی جذبات کی مکمل تسکین نہیں ہوئی تو کرکٹ ورلڈکپ کی طرز پر دام ہمرنگ زمین بچھایا گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مطلع فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:’’قیامت کے دن پانچ سوالوں کے جواب دینے تک کسی کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے ‘‘اُن میں دو یہ کہ ’عمر کہاں بِتائی اورجوانی کہاں گھُلائی‘۔ایک طرف تو مجاہدین اور اُن کے انصارڈرون حملوں اور مسلسل بمباریوں میں شہید ہونے والے شہداکی لاشوں کاشمار کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جانب آرام کدوں میں بیٹھ کر سکور بورڈ پر نظریں ٹکائے رنز کی گنتی کرنے والے نظر آتے ہیں۔یہ ہے ایمان ……جس کی قیمت شہدااپنے جسموں کو وار کر ادا کررہے ہیں اوریہاں یہی ایمان‘ لہوولعب کے تہواروں اور ٹی وی سکرینوں کے سامنے ورلڈکپ مقابلوں کے نظاروں میں سسکتا دکھائی دیتا ہے۔

آج تمام دنیائے کفر سے برسرپیکار مجاہدین ‘اسی ایمان کی آبیاری کی دعوت دے رہے ہیں۔یہ مجاہدین ہرروزکئی ایک ’ریمنڈڈیوس‘ سے نبردآزما ہوتے ہیں۔یہاں یہ حال ہے کہ ایک ریمنڈڈیوس ہاتھ آیا ہے اور اُسے بھی ’کچھ لو اورکچھ دو‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا اور وہاں یہ کیفیت کہ ایمان کی بہاروں کا مزا لوٹنے والے ایک دن میں درجنوں ’ریمنڈڈیوسوں‘ کا شکار کرتے ہیں۔

 تیونس،مصر،لیبیا،یمن،بحرین اورالجزائر کے مسلمان ظلم و جبر کے نظام کے محافظ حکمرانوں کے خلاف اٹھ رہے ہیں۔لیکن بصیرت و بصارت رکھنے والی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ہرجگہ نظامِ باطل پر حرف اورآنچ نہیں آنے دی گئی۔جب عامۃ المسلمین کا پیمانہ صبر لبریز ہورہا ہے تو محض چند شخصیتوں یا خاندانوں کی طرف اس غم وغصہ کی لہر کو موڑ کرطاغوتی نظام کو نئے اور تازہ دم ہاتھوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔اس صورت حال میں یہ حقیقت مزید نکھر کر سامنے آرہی ہے کہ صرف اور صرف جہاد و قتال کاراستہ ہی ظلمتوں کی رات کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرنے کا اصل راستہ ہے۔چہروں کی تبدیلی کے نتیجے میں زین العابدین کی جگہ محمدغنوشی اورحسنی مبارک کی جگہ عمرسلیمان اورحسین طنطاوی آموجود ہوں گے۔ان حالات میں یہ بات سب کو سمجھ آرہی ہے کہ امت پر مسلط ان جابر حکمرانوں سے نجات حاصل کی جائے لیکن امت کے زخموں کی تریاقی کے لیے محض اتنا ہی کافی نہیں ہے۔اب باطل نظام سے کلّی برأت اوراس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہی عافیت ہے۔

اے نوجوانانِ اسلام!یہی نوجوانی کے دن اور یہ طاقت و توانائی ،بھرپور صلاحیتیں اور زندگی کے قیمتی لمحات کہ جن کو ’’جیسے چاہو جیو‘‘ کی نظر کر نے بسنت ، میلے ، کرکٹ میچ جیسے لہوولعب کی نظر کرنے کے بجائے اللہ کے دین کی نصرت کی خاطر ، مظلوم سسکتے مسلمان بچوں ،عورتوں اورقیدیوں کو جابروں کے ہاتھوں سے چھڑانے کے لیے، کلمۃ اللہ کوبلند کرنے کے لیے مجاہدین اپنی جوانیا ں لٹارہے ہیں ، اپنی جانوں کو جنت کے سکھ و آرام کے لیے کھپا رہے ہیں ۔ان کے دل اللہ کے دین کی محبتوں سے بھرے ہوئے ہیں ، ان کی جانیں جنت کے بدلے خرید ی جاچکی ہیں۔کفر کی تمام تر طاقت، جدیدیت اور ٹیکنالوجی مجاہدین کے ایمان کے سامنے لرزہ براندم ہے۔ایمان اورٹیکنالوجی کی اس جنگ نے تمام امت سے ایک بار پھر وہی سوال پوچھا ہے کہ ’جب کفر کی دیں سے ٹکر تھی تو تم نے کس کا ساتھ دیا‘ ۔اللہ الصمد کی شان ہے کہ اپنے دین کی سربلندی کے لیے ناتجربہ کار ، نوآموز نوجوانوں سے لے کر عمر رسید ہ ،کمزور افراد کو بھی وقت کی دجالی قوت کے آگے چٹان کی طر ح ڈٹ جانے کی استقامت عطا فرماتا ہے۔اے امت مسلمہ کے نوجوانو! کسی ایک میدان کا انتخاب کرلو!مصعب بن عمیر ؓ ، معاذؓ و معوذؓ بن جاؤ یا پھر کسی کھیل تماشے اوردیگر لہوولعب کے اسیر ہو جاؤ …… فیصلہ کرلو!کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو پوری طرح واضح کردیا ہے اور اس میں کوئی کجی نہیں چھوڑی اور باطل اپنی تمام آلائشوں سمیت بے نقاب ہوچکا ہے۔پس جس کا دل چاہے وہ حرص وہوس کی غلامی اختیار کرلے اور دنیا کی خوشنمارنگینیوں کے لیے آخرت کو بھلا بیٹھے اور جس کا دل چاہے وہ دنیا کولُٹا کر جنتوں کا سودا کھرا کرلے ۔

تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا

اداریہ: اپریل ۲۰۱۱ء ؍ جمادی الاول ۱۴۴۱ ھ

۲۱مارچ کو فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک کو جلاکر اپنی جہنم کو دہکایا۔ پادری یہ کام گزشتہ سال نائن الیون کی برسی پر بھی کرنا چاہتا تھا۔اس صلیبی جنگ میں تو قدم قدم پر جناب رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات اور قرآن مجیدنشانہ ہیں،یہودونصاریٰ جانتے ہیں کہ یہی دومراکز ہیں جن کی بنیاد پر مسلمان اُن کے طاغوتی تسلط کو دنیا بھر سے ختم کرنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی راہ پاتے ہیں۔معلوم نہیں کہ اتنے واضح کاموں کے بعد بھی مسلمانوں کے بعض طبقات اُن سے مکالمہ کرنا چاہتے ہیں!رتی بھرغیرت وحمیت کی رتی بھی جس مسلمان میں موجود ہو وہ ان صلیبیوں کو دنیا میں زندہ دیکھنا گوارا نہیں کرسکتا۔ہرگزرتا دن اس حقیقت کومزید واضح کررہا ہے کہ امت مسلمہ کے لیے عزت اور غلبے کا واحد راستہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے۔

دوسری طرف۱۹مارچ کو امریکہ،برطانیہ،فرانس اور جرمنی نے اپنے حواریوں سمیت لیبیا پر حملہ کردیا ہے اور یہ حملہ بھی صلیبی لونڈی ’سلامتی کونسل‘ کی اجازت سے ہوا ہے۔عراق پر حملے میں جس طرح صدام کو بہانہ بنایاگیا تھا۔لیبیا پر حملے میں قذافی کو بہانہ بنایا۔اصل میں تو امت ِ مسلمہ کی زمین اور وسائل ہی عالم کفر کی نظر ہوتی ہیں۔شاید مشیت ایزدی میں افغانستان اور عراق کے بعد لیبیا میں بھی امریکی قبرستان بننا لکھا جاچکا ہے اور ان شاء اللہ اس قبرستان میں امریکی حواری قذافی بھی مدفون ہوگا اور بلادِ اسلامیہ میں شریعت کا پرچم لہرائے گا۔

افغانستان میں امریکہ کے چغہ بردار مسخرے کرزئی نے کہا ہے کہ جولائی میں افغان فورسز سات علاقوں کا کنٹرول اتحادی فوجوں سے لیں گی۔ان علاقوں میں کابل،پنج شیر، بامیان،ہرات،مزارشریف اور ہلمند کا دارالحکومت لشکرگاہ کے علاوہ قصبہ مہترلام بھی شامل ہے۔یہ بھی عجیب لطیفہ ہے کہ جن علاقوں میں بیالیس ممالک مل کر ’رٹ‘ قائم نہیں کرسکے ان میں تن تنہا افغان فوج کیا کرے گی؟ایسا لطیفہ کرزئی کی زبان سے ہی مناسب لگتا ہے۔ویسے زمینی حقائق بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ صلیبی افواج اب افغانستان سے تنگ آچکی ہیں اور ان کو جیسے تیسے افغان فوج کے حوالے کرکے خود محفوظ ہونا چاہتی ہیں۔روس بھی اپنے آخری دنوں میں ایسا ہی بے چین تھا اور سب کچھ نجیب کے سپرد کررہا تھااورشہری علاقوں میں اسی طرح اندھادھند بم باری کیے جارہا تھا جیسا کہ اب امریکہ اور اتحادیوں کا وطیرہ بن چکا ہے گویا کہ صلیبی روسیوں کی قدم بقدم پیروی کررہے ہیں اور ان شاء اللہ اُسی انجام کو دیکھنے جا رہے ہیں جو اُن کے پیش رو سوویت یونین کا ہوا تھا۔

پاکستان میں ۲۷ جنوری کو شروع ہونے والا ’ریمنڈ ڈرامہ‘بالآخر ۴۸دنوں بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔بھلا غلام کیونکر اپنے آقا کو کٹہرے میں کھڑا کرسکتے ہیں اور یہ ۴۸ دن بھی اپنی قیمت میں اضافے کے لیے صرف ہوئے وگرنہ ’نوکرکیہ تے نخرہ کیہ‘۔اس ڈرامے نے فوج سے لے کر خفیہ ایجنسیوں ،عدلیہ اور سیاسی پارٹیوں تک سبھی کو بے نقاب کردیا کہ امریکہ کی غلامی میں سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور یہ حقیقت بھی ایک بار پھر آشکارا ہوگئی کہ پاکستان کے حقیقی حکمران فوجی ہی ہیں۔پردۂ سکرین پر چاہے کوئی زرداری ایکٹنگ کررہا ہو یا یہ کردار کسی لیگ کے ذمہ تفویض کیا گیا ہو، حقیقی قوت نافذہ فوج ہی کے پاس ہے اور وہ ہی امریکہ کو الٰہ بنائے پوج رہی ہے۔ ڈیوس کو چھوڑنے کے اگلے روز ہی دتہ خیل کے جرگے پر ڈرون حملہ کرکے امریکیوں نے غلاموں کو اپنی اوقات کا پتہ دیا اور عجب بات یہ ہے کہ تین سو ڈرون حملوں کے بعد اس ڈرون حملے کی مذمت حکومت اور فوج کے پردھان منتریوں نے بھی کی گویا یہ وہ واحد حملہ ہے جو فوج کی مخبری کے بغیر ہوا۔اس حملے کی مذمت کرکے ڈیوس ڈرامے سے اٹھنے والی خفت کودورکرنا مقصود تھا۔

فلوریڈا کے پادری کی گندی اور مکروہ حرکت ہو یا لیبیا پر صلیبی حملہ،افغانستان میں صلیبی رسوائیوں کا منظر نامہ ہویا پاکستان میں ڈیوس ڈرامے کا ڈراپ سین ……ہرایک واقعہ بزبان حال بھی او ربزبان قال بھی یہی کہہ رہا ہے کہ امت مسلمہ کے لیے ذلت و پستی سے نکلنے اورعزت و کامرانی پانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ!اس کے علاوہ باقی سب کچھ دھوکہ ،فریب اور سراب ہے!!!

دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا

اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

 

حق پر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

اداریہ: مئی ۲۰۱۱ء ؍ جمادی الثانی ۱۴۳۲ ھ

جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے توں توں یہ حقیقت مزید واضح ہوکر سامنے آرہی ہے کہ صلیبی کفار مسلمانوں سے ان کے اسلام پر جنگ کررہے ہیں۔ ان کا مادی مفاد اگر کوئی ہے تو وہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مجاہدین تو یہ بات گزشتہ بارہ پندرہ سالوں سے کررہے ہیں لیکن بعض لوگ جنہیں اپنے تئیں دانش ور ہونے کا زعم ہے، بار بار فکری جگالی کرتے ہیں کہ مغرب سے مکالمہ اور ڈائیلاگ سے امت کے مسائل حل ہوں گے مگر وقتاً فوقتاً یکے بعد دیگرے واقعات کے تسلسل سے اللہ رب العزت ان لوگوں پر اتمامِ حجت کرتے رہتے ہیں جب مغربی کفار کا صلیبی جنون بڑھ چڑھ کر بولتا ہے۔ ماہِ گزشتہ میں فرانس نے حجاب پر پابندی عائد کردی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کے لیے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے پادری ٹیری جونز نے مارچ میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی اس پر ملت اسلامیہ میں سب سے جان دار رویہ افغانستان کے جری مسلمانوں کی طرف سے سامنے آیا، ہزاروں مسلمانانِ افغانستان نے اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کیا وہاں ان کو بھی مارا اور خود بھی شہادتیں پیش کیں۔ اقبال نے ان کے بارے میں ایک صدی قبل ہی کہہ دیا تھا۔

افغان باقی کہسار باقی
الحکم للہ الملک للہ

افغانستان میں کفار کی افواج جہاں بدترین عسکری شکست کے کنارے پر کھڑی ہیں، وہیں یہ اپنی اخلاقی پستی کی بھی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے تاریخِ انسانی کے بدترین کردار کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ جرمن میگزین ’اسپیگل‘ میں شائع ہونے والی تصاویر، ’’انسانی حقوق، تہذیب، آزادی اور جمہوریت‘‘ جیسی ’’اعلیٰ اقدار‘‘ کی ترویج کے لیے مسلم خطوں میں غارت گر صلیبی اقوام اور ان کے تمدن کے مداحوں کا منہ چڑا رہی ہیں۔ ان تصاویر میں امریکی فوجی‘ مسلمانوں کو شہید کرنے کے بعد اُن کی لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں، اُن کے اعضا کو ’ٹرافیوں‘ کی صورت میں ایک دوسرے کو پیش کررہے ہیں……’اسپیگل‘ کے مطابق اُس کے پاس ایسی ہی چار ہزارسے زائد تصاویر موجود ہیں جو صلیبیوں کی سرشت میں پائی جانے والی وحشت درندگی اور اسلام دشمنی کا حال بیان کررہی ہیں۔

اس ماہ اللہ کی بہت بڑی نصرت یہ ہوئی کہ قندہار جیل میں طالبان مجاہدین نے تین سو ساٹھ میٹر لمبی سرنگ کھودی اور ۵۴۱ مجاہدین کو مرتدین کی قید سے چھڑا کر دنیا بھر کے مجاہدین کو ’فکو العانی‘ قیدی کو چھڑاؤ کے حکم نبوی علی صاحبہا السلام پر عمل کے لیے لائحۂ عمل بتایا ہے۔ اسیر مجاہدین ہر لمحہ امت کی ماؤں بہنوں اور بزرگوں کی دعاؤں کے مستحق بھی ہیں اور مجاہدین کے عملی کوششوں کے حق دار بھی۔ دنیا بھر کی جیلوں میں کفارومرتدین کی جیلوں میں محبوس امت کے ابطال کو اللہ تعالیٰ جلد از جلد رہائی کی صورتیں مقدر فرما کر ہمارے درمیان لائیں، آمین۔

آزاد قبائل کی مہمند ایجنسی میں امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج اپنے روایتی انداز میں بم باری کرکے مسلمانوں کو کرب اور اذیت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ اب تو اس محاذ پر امریکہ کی شمولیت کی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں کہ کس طرح صلیبی اتحادی مسلمانوں کے خلاف جنگ کے ہر محاذ پر متحد ہیں لیکن ان کی کیفیت تو تحسبهم جميعا و قلوبهم شتی ’ تم خیال کرتے ہو کہ وہ اکھٹے ہیں جب کے ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں‘ کی ہے ……’صف اول کے یہ اتحادی ‘ مجاہدین کوگرفتار کرنے اور امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں پیہم مصروف ہیں۔ عمر پاتک جیسے اللہ کے دین کے مددگار کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا جبکہ سیکڑوں’ریمنڈڈیوس‘ دندناتے پھر رہے ہیں۔ پاکستان ‘ امریکہ سے ہلکا پھلکا احتجاج بھی کرتا ہے لیکن امریکہ اپنی لونڈی آئی ایس آئی کے سربراہ پاشا کو پنٹا گون میں بلا کر اُسے غلامی کی حدود میں رہنے کی ہدایات دیتا ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف ’’پرزور احتجاج‘‘ بھی کیا جاتا ہے لیکن اگلے ہی دن کسی نہ کسی علاقے میں امریکی ڈرون طیارے اسی پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے مجاہدین پر میزائل بھی برساتے ہیں……نیٹو سپلائی لائن کے خلاف ’’بڑوں‘‘ کی تھپکی کے ساتھ دھرنے بھی دیے جاتے ہیں اور اگلے ہی روز سے سیکڑوں کنٹینر اور آئل ٹینکر پاکستان سے معمول کے مطابق گزر کر افغانستان میں موجود افواج کے لیے ’سامانِ زندگی ‘ پہنچاتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان، افغانستان میں صلیبی شکست دیکھ کر کرزئی ملیشیا سے راہ و رسم بڑھانا چاہتا ہے اور قبائل میں بھی یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ ہم آپ کے خیرخواہ ہیں، ڈرون حملوں پر پاکستانی حکمرانوں کے احتجاجی بیانات اس مہم کا حصہ ہیں کہ اس سے قبائل میں تاثر بھی بہتر ہو اور ڈیوس کے معاملے میں ہونے والی سبکی کے اثرات کو بھی زائل کیا جاسکے لیکن شاید اس نظام کے پاسداران کو اس حقیقت سے آگاہی نہیں کہ قبائل اور افغانستان میں بسنے والے ‘ سادہ دل ضرور ہیں لیکن ان کا حافظہ بہت قوی ہے۔ وہ صدیوں کی دشمنیاں بھی نہیں بھولتے۔ گزشتہ دس سالوں کا تو ایک ایک لمحہ ان کو ازبر ہے کہ کس طرح صلیبی صہیونی اتحاد کے فرنٹ لائن اتحادی نے صلیبی جنگ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے امارت اسلامیہ افغانستان کے ہزاروں مجاہدین انہوں نے ہی گرفتار کیے‘ امریکہ کو بھی دیےاور اپنے ٹارچر سیلوں میں بھی رکھے، شریعت کی حکمرانی کے خاتمے اور ان کے بہنے والے خون کے جرم میں یہ برابر کے شریک ہیں۔ یہ امر نوشتۂ دیوار ہے کہ امریکہ کی شکست کے بعد مسلمانان افغانستان ان کے بچھائے کسی جال میں آنے والے نہیں۔

قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

اداریہ: جون و جولائی ۲۰۱۱ء ؍ رجب و شعبان ۱۴۳۲ ھ

اے اللہ !ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے بندے اسامہ نے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو عروج کا راستہ دکھادیا،وہ اس دور کے مصعب بن عمیر ؓ تھے انہوں نے شاہانہ زندگی تیرے دین کی عزت کے لیے تج دی اور فقیرانہ زندگی اختیار کی،دنیا میں در در کی ٹھوکریں خود بھی کھائیں اور ان کے بیوی بچوں نے بھی……صرف اور صرف تیرے لیے……جب اپنوں نے گھر سے نکال دیا تو بیگا نوں کی بے رخی کا تو تذکرہ ہی کیا۔اے اللہ !ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے بندے اسامہ نے اس دور میں خالص تیرے لیے جہاد کے منہج کو زندہ کیا اور تمام عالم میں تیرے نام لیواؤں کو یہودی بھیڑیوں اور عیسائی کتوں کے نرغے سے نکلنے کا عملی راستہ دکھایا ۔اے اللہ!ان کے حق میں ہماری گواہی کو قبول فرما اور انہیں ان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی نصیب فرما جن کی امت کے دکھوں اور غموں نے انہیں اس حال میں تیرے سے ملایا کہ گوشت اور ہڈیوں میں سے کچھ بھی سلامت نہ تھا ۔یا اللہ! اپنے اس بندے کو اپنے خصوصی پیار سے نواز کہ جس کے بعد اس کی ساری تھکن،سارے غم اور ساری کلفتیں ختم ہو جائیں۔یا اللہ !آپ اپنے اس بندے کو اتنا خوش کر دیں کہ وہ آپ سے راضی اور آپ اس سے راضی ہو جائیں، آمین۔

۲مئی ۲۰۱۱ء کوایبٹ آباد میں اس صدی کے مجدد ِجہاد اپنی مراد پا گئے یہ عجب اتفاق ہے یا عالم ِ تکوینیات میں مقصد کی یگانگت کو ظاہر کرنے کا انتظام،کہ گزشتہ صدی کے مجددِ جہاد سید احمد شہیدؒنے بھی اسی قریہ میں اپنی جاں رب اللعالمین کے حضور پیش کی اور گزشتہ سے پیوستہ صدی میں جہاد کی علامت ٹیپو سلطان ؒنے بھی ماہِ مئی میں ہی خلعتِ شہادت زیب تن کی تھی۔

شیخ اسامہ بن لادنؒ نے تین صدیوں کی دم توڑتی امت کی پریشاں نظری کا عملی علاج تجویز کیا اور یہ ہی شیخ کا وہ کام ہے جس کی بنا پر علما ان کو عصرِ حاضر کا مجدد ِجہاد قرار دیتے ہیں۔گزشتہ تین صدیوں سے امت کے قائدین اور غم خوار، مغرب کے فلسفۂ زندگی کی تباہ کاریاں بیان کررہے تھے لیکن صلیبیوں کا طوفانِ بد تمیزی تھا کہ بڑھتا ہی چلا گیا، اس کے سامنے بندباندھا تو شیخ اسامہ ؒ نے ،ان کے گھر کے اندر ان پر تباہی مسلط کر کے امت کو ذلت سے نجات دلائی اور عروج کے راستے پر گامزن کیا۔اقبال نے پون صدی قبل جس ’میر کارواں ‘ کا خواب دیکھا تھا کہ……

؏نگہ بلند ، سخن دلنواز،جاں پرسوز

……شیخ اس کی عملی تصویر تھے۔

شیخ کے جہادی منہج میں جو ایک چیز بہت زیادہ نمایاں ہے ……وہ ہے آپ کی بلند نگاہی……اور ان کی یہ ممیز صفت آج مجاہدین کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتی ہے ……وہ یہ کہ شیخ کوہر معاملے میں امت مسلمہ کی خیرخواہی مطلوب ہے۔یہاں تک کہ شیخ نے ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کے بارے میں سوچا اور پاکستان میں حالیہ سیلاب کے موقع پر بیان میں ایسے موثر فنی اقدامات تجویز کیے جن کو پڑھ کر متعلقہ امور کے ماہرین بھی کہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ بات کئی جدید ادارے اپنی کئی سال کی تحقیق کے بعد بھی اس انداز سے نہیں کرسکتے جس طرح شیخ نے بیان کی ہے۔

شیخ کی نگاہ بلند کا یہ تنوع بھی دراصل ان کے پر سوز قلب کا پرتو تھا۔امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم میں شب وروز گھلتے اس سلیم الفطرت شخص کا عمل بھی اس کی دردمندی کا شاہد تھا۔آپؒ کی بلندنگاہی کفری نظام کی کھینچی گئی سرحدوں، رنگ و نسل ،زبان اورمسالک فقہی کے تعصبات سے ماوراتھی ۔آپ کا دل اور بانہیں ہر فقہ سے تعلق رکھنے والے ہر عالمِ ربانی کے لیے ہمہ وقت وا رہتیں تھیں شاید یہ اس د ل نو از سخن ورکی اس دردمندی کا فیض تھا کہ اللہ نے امت کے خاص وعام ،بچے بوڑھے ، علما و عوام کے دلوں میں آپ کی ایسی محبت راسخ کر دی تھی ،امت کی تاریخ میں جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔اللہ نے یہ اعزاز بھی شیخ ہی کو بخشا کہ آپ کے متبعین اور محبین میں رنگ و نسل ، زبان ووطن ،مسلک ومنہج کی کوئی تخصیص اور امتیاز نظرنہیں آتا۔

مکتب الخدمات اور جمعیت الانصار کے دور میں مجاہدین کی رہائش گاہوں کے امور ہوں یا افغانستان میں جہادی معسکرات کی تعمیر ،روس کے خلاف جہاد کے دور میں بھی اور امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد بھی افغانستان کے مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا معاملہ ہویا مجاہدین کے لیے خندقوں،غاروں اور بنکروں کی تعمیرکے مسائل،سوڈان میں مسلمانوں کو قحط سالی سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات ہوں یا وہاں کی زمین کو آباد کرنے اور وہاں کے مسلمانوں کو صلیبی قوتوں کی دست نگری سے بچانے کے لیے صنعتی جال بچھانے کے امور،پاکستان میں بے نظیر کی امریکہ نواز حکومت سے مسلمانوں کو محفوط رکھنے کی کوششیں ہوں یا وزیرستان،قبائل،لال مسجد اور سوات میں مرتدین کی فوج کشی،زلزلے اور سیلاب میں مبتلا مسلمانوں کی خیر خواہی کا معاملہ ہو ، بلادِ حرمین کو یہودونصاریٰ سے پاک کرنے کے لیے جہاد ہو یا دنیا کے ہر خطے میں مظلوم مسلمانوں کو کفار کی چکی میں پسنے سے بچانے کے لیے اپنا خون اور پسینہ بہانا ہو،مسلم خطوں میں صلیبی اتحادیوں کے تسلط سے اسلامی سرزمینوں کوآزاد کروانے کے لیے اور شریعت اسلامی کو نافذ کرنے کے لیے اپنا تن من دھن وارنا ،مسلمانوں کو تین صدیوں کے احساسِ غلامی سے نکال کر تصورِ عروج دینا ہو یا امریکہ کی طاقت کو دنیا بھر میں چور چور کرنا ہو……حق تو یہ ہے کہ شیخ نے اپنے ۳۲ سالہ دورِجہاد میں جس انداز سے اپنے آپ کو امت کے غم میں گھُلا دیا وہ انہی کا خاصہ ہے اور اللہ انہیں پوری امت مسلمہ کی طرف سے اس کی بہترین جزا عطا فرمائے اور ان کے خون کی برکت سے اللہ امت کے ہر پیروجواں کو اس توحید ِ حاکمیت، الولاء والبراء کے عقیدے پر جینے اور مرنے کی سعادت سے نوازے اور فرضیتِ عین کے اس دور میں جہاد فی سبیل اللہ کے راستوں پر استقامت سے گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔

فضائے بدر پیدا کر!

اداریہ: اگست ۲۰۱۱ء ؍ رمضان المبارک ۱۴۳۲ ھ

رمضان المبارک اور جہاد کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مسلمانوں پر ۲ ہجری میں ہی روزے فرض ہوئے اور ۲ ہجری میں ہی وہ تاریخی معرکۂ حق و باطل بپا ہوا جسے غزوۂ بدر کہاجاتا ہے۔بدر کا اہم ترین باب یہی ہے کہ اُس غزوہ میں بھی مسلمان تہی داماں اور تہی دامن تھے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اللہ سے اُس کی مدد و نصرت مانگ رہے تھے،پھر اُسی نصرت کی وجہ سے کفار کو بدترین شکست ہوئی اور اہل ایمان فتح مند ہوئے۔

آج بھی رمضان کی آمد سے قبل اس دور کے صلیبی سردار امریکہ نے افغانستان سے مرحلہ وار اپنی فوجیں نکالنا شروع کردیں ہیں،یہ معرکہ اور تاریخ ِ اسلام کے تمام تر معرکے مسلمانوں نے محض اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے فتح کیے۔دس سال پہلے تو اہلِ عقل یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ امریکہ اور اس کے اُنچاس حواریوں کو بھی شکست ہو سکتی ہے ،مگر مٹھی بھر اہلِ ایمان صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہوئے ‘دنیا بھر کی ٹیکنالوجی اور وسائل سے لیس فوجوں سے ٹکرا گئے۔دنیا والے اُنہیں دیوانہ اور مجنوں قرار دیتے رہے اور پتھر کے زمانے میں جانے کے ڈر سے اپنا ایمان صلیب کی دیوی پر قربان کرتے رہے۔دنیا کا کوئی ایک بھی ملک مجاہدین کی پشت پر نہیں تھا ،بہت قریبی ہمسائے بھی بنو قریظہ کے جانشین ثابت ہوئے،تب صرف ایک خالقِ کائنات ہی کا واحد سہارا تھا جس کے بھروسے پر مجاہدین اٹھے اور اُسی کی نصرت سے چھا گئے……

بس مجاہدین ِ اسلام کے لیے ہر لمحے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس فتح میں ہماری کسی تدبیر،کسی کوشش،کسی ٹیکنالوجی کا کوئی کردار نہیں ،یہ صرف اور صرف مولا کی نصرت ہی ہے۔شیطان کی اس موقع پر خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیتوں میں فتور پیدا کرے اور اس کے حملوں سے بھی ہم خود نہیں بچ سکتے ،ہمیں ہمارا مولا ہی بچاتا ہے۔بس ہمیں نیت کو خالص اور ہدف کو ٹھیک اور واضح رکھنا ہے!!!

اللہ تعالیٰ کے فضل سے صلیبی لشکروں کے درمیان پھوٹ پیدا ہوچکی ہے۔امریکہ ‘آئی ایس آئی پر اعتماد نہیں کررہا اور اس کے فنڈ روکے ہوئے ہے ،آئی ایس آئی‘ افغان فوج پر بداعتمادی کا اظہار کررہی ہے اور افغان حکومت ‘نظامِ پاکستان سے بدگمان ہے۔یہ سارا منظر نامہ تحسبھم جمیعاوقلوبھم شتیٰ کی عملی تصویر پیش کررہا ہے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے اخلاص اور شیخ اسامہؒ کے مبارک خون کی وجہ سے دکھایا ہے۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا ہوگا اور ہرمعاملے میں شریعت کے احکامات کو سامنے رکھ کر سفر جاری رکھنا ہوگاکیونکہ یہ سارا سفراورجہاد فی سبیل اللہ ‘ شریعت ہی کے غلبے کے لیے ہے۔رمضان کے مبارک مہینے سے کما حقہ‘ فائدہ اٹھانے کے لیے اس شمارے میں تحریر شامل ہے،اسے پڑھ کر عملی اقدام کرنا ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اس رمضان کو امت مسلمہ کی سرفرازی اور عروج اور کفار کی بربادی اور تباہی کا مبارک مہینہ بنادے،امت مسلمہ کو خلافت اسلامیہ کی منزل سے قریب تر کردے اورکفار و مرتدین کی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی رہائی کی صورتیں غیب سے مقدر فرما دے،آمین۔

اے اللہ!تو ان کافروں اور مرتدوں سے اُن کے بہن بھائی چھین لے ،جس طرح اُنہوں نے ہمیں ہمارے بہن بھائیوں سے جدا کیا ہے۔یااللہ!تو اُن کی بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کردے ،جس طرح اُنہوں نے ہماری امت کی عزت مآب خواتین کو بیوہ اور ہمارے معصوم جنتی پھولوں کو یتیم کیا ہے اور اے اللہ!تو ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ،جس طرح اُنہوں نے ہماری بستیوں کو بم باری اور ڈرون سے جلایا۔اے اللہ!تو اُنہیں عاد،ثموداورقومَ نوح کی طرح پکڑ لے،فرعون والوں کی طرح غرق کردے،اے اللہ !ہمارے دل ٹھنڈے کردے،آمین۔

 

تھا اپنی طاقت پہ ناز جن کو ،وہ بُرج سارے الٹ چکے ہیں

اداریہ: ستمبر و اکتوبر ۲۰۱۱ء ؍ شوال و ذو القعدہ ۱۴۳۲ ھ

اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت اور کبریائی اہلِ ایمان کے لیے یقیناً کسی دلیل کی محتاج نہیں لیکن کیا کہیے اس ربِّ کریم کی شفقت کے کہ وہ اپنے بندوں کے ایمان کی مضبوطی ،دلوں کے اطمینان اور کفار ومنافقین اور مرتدین کو انہی کے غیض و غضب کی آگ میں جلا مارنے کے لیے اپنی قدرت و عظمت کی ایسی نشانیاں آشکارکرتا ہے کہ مومنین کے دل بے اختیار اُس کی تسبیح و تحمیدکرنے لگتے ہیں اور ابلیس اور اس کے حواری جلتے انگاروں پر منہ کے بل جا گرتے ہیں۔

گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کا سورج بھی اہل زمین کو ان کے رب کی طرف سے ایسی ہی ایک نشانی دکھانے کے لیے طلوع ہواتھا،یہ وہ دن تھا جب مالک ارض وسما نے روئے زمین پر ظاہر ہونے والے خدائی کے بدترین دعوے دار اور اس کے پجاریوں کو جھنجھوڑ مارتے ہوئے کہا:فکیف کان عذابی ونذر(پھر کیسا تھا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا )؟

گیارہ ستمبر۲۰۰۱ء کو واشنگٹن اور نیویارک میں ہبلِ عصر امریکہ کے سر پر پڑنے والی ضربِ شدید نہ تو محض ایک اتفاقی واقعہ تھا اور نہ ہی چند جذباتی نوجوانوں کا وقتی انتقامی ردعمل۔ بلکہ سرکش اورباغی اقوام کی پکڑ کے الٰہی قانون کی امریکہ پر تنفیذ کا آغاز تھا۔آج ۱۰ سال بعد امریکہ کی نس نس سے بہتا لہو یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اذن سے ابابیلوں کی مانند امریکہ پر جھپٹنے والے وہ انّیس نوجوان امریکہ کے بدنما چہرے پر محض ایک خراش ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ اس کو افغانستان کی پاتال میں گھسیٹ کر ابرہہ کے ہاتھیوں کی طرح بھرکس بنانے کا عزم لے کر گھروں سے نکلے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین ،ان کے قائد ین امیرالمومنین حضرت ملا محمد عمر نصرہ اللہ اورشیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ اور ان کے دیگر سیکڑوں ہزاروں رفقا کے اخلاص کو قبول کیا او ربالآخر آج اللہ کی نصرت اور قدرت سے مومنین مخلصین کے دلوں کی ٹھنڈک کا سامان لیے ایک فتح ِ عظیم اس امت کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے ان مبارک حملوں کے نتیجے میں براہ ِ راست اور بالواسطہ مجموعی طور پر اندازاً دوہزار ارب ڈالر کے نقصانات ،عراق اور افغانستان کی جنگوں پر خرچ ہوئے تقریباً تین ہزار ارب ڈالر،صلیبی جنگ میں ہلاک ہونے والے ،اپاہج اور نفسیاتی مریض اور امریکی معیشت پر بوجھ بنے لاکھوں امریکی فوجی ‘ٹائی ٹینک کی مانندہر لحظہ ڈوبتی امریکی معیشت ،عالمی سیاست میں بے وقعت اور تنہا ہوتی ہوئی امریکی قوم ،تیونس ،مصر،شام ،لیبیا بلکہ پوری عرب دنیا میں امریکی پٹھوؤں کی ذلت آمیز رخصتی اور سب سے بڑھ کر عراق کے بعد افغانستان سے بھی صلیبی لشکروں کی رسوا کن پسپائی ……یہ سب فتح و نصرت کی روشن نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟

پس خوش خبری ہو اُن مومنین،صابرین،متقین،متوکلین مجاہدین کو جنہوں نے امریکہ کی جھوٹی خدائی کا انکارکیا اور اللہ رب العزت کی وحدانیت کا پرچم بلند کرتے ہوئے پوری ملتِ کفر کے سامنے ڈٹ گئے۔جو شبرغان،دشتِ لیلیٰ،باگرام،ابوغریب اورگوانتاناموبے جیسے ان گنت مقتلوں میں احداحد کی صدائیں بلند کرتے اپنی منزلِ مراد پاگئے یا آج بھی سنتِ یوسفی پر عمل پیرا ہیں۔جو شاہی کوٹ،تورابورا،وزیرستان،سوات،فلوجہ جیسے آتشِ نمرود کے بھڑکتے الاؤ دیکھ کر بھی اُن میں کود گئے اور اپنی عاقبت کو گل و گلزار کرگئے۔پس خوش خبری ہو امت مسلمہ کوجس نے چُن چُن کراپنے لعل و جواہر،اپنے سارے اسماعیل اپنے رب کے حضورقربانی کے لیے پیش کردیے۔خوش خبری ہو ہر اس آنکھ کو کہ جس نے مجاہدین کی محبت اور امت کے درد میں اپنے اللہ کے حضور آنسو کا ایک بھی قطرہ پیش کیا۔خوش خبری ہو ہر اُس ہاتھ کو جو ایک بھی مرتبہ بارگارہِ الٰہی میں دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے،کفر کی شکست اور مجاہدین کی خیرخواہی کے لیے بلند ہوااوردوسرے ہاتھ کو خبر کیے بغیر اپنی قیمتی متاع و دولت اللہ کی راہ میں پیش کی۔خوش خبری ہو ہر اُس دل کو کہ جس میں کلمۃ اللہ کی سربلندی ،اسلام کی فتح اورملتِ کفر کی ذلت و رسوائی کی آس، امیداورخواہش موجود ہےکہ……

 ہَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَصَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ

’’یہ وہی ہے جو وعدہ دیا تھا ہم کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے ‘‘……

ہر وہ صاحبِ ایمان جو ایک دِہائی سے گرم اس معرکے میں کسی نہ کسی حیثیت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ِ ایمان کے ساتھ تھا،اُس کے لیے تویقیناً دونوں یا دومیں سے ایک خوش خبری ہے۔لیکن اللہ کی لعنت ہو ہر اُس شخص ،گروہ اور قوم پر جس نے اس جنگ میں کفر کا ساتھ دیا اور خود کو کفر کے ساتھ نتھی کیا۔اللہ کے دشمنوں پر یہ پھٹکار ان دس برسوں میں خوب پڑی ہے اور اب بھی برابر جاری و ساری ہے۔عین گیارہ ستمبر کی دسویں سالگرہ کے روزافغانستان کے صوبے وردگ میں امارت اسلامیہ کے مجاہد سیف اللہ نے ۹ ہزار کلوگرام بارود کے ساتھ ضلع سید آباد میں واقع امریکی مرکز پر فدائی حملہ کرکے مللِ کفر کے دس سالہ زخموں میں ایک مزید ایسے گھاؤ کا اضافہ کیا جس کی تاثیر پنٹاگون تک کی روح کی گہرائی میں پھیل گئی۔یاد رہے کہ سید آباد وہی جگہ ہے جہاں ابھی گزشتہ ماہ مجاہدین نے امریکی چنیوک ہیلی کاپٹر مارگرایا تھا جس میں سوار تمام ۳۱ امریکی کمانڈوز جو کہ مبینہ طور پر شیخ اسامہ رحمہ اللہ کی شہادت والے آپریشن میں ملوث تھے ‘مارے گئے تھے۔جب کہ اول الذکر حملے میں بھی امارت اسلامیہ کے ذرائع کے مطابق ۱۰۰ سے زائد امریکی صلیبیوں کے جہنم واصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔نائن الیون کی سالگرہ سے متصل صلیبیوں کو ایک او رتحفہ ۱۳ستمبر کو کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو ہیڈکوارٹر پرہونے والے فدائی حملوں کی صورت میں ملا۔۱۵فدائی مجاہدین تقریباً۲۰ گھنٹے تک صلیبی فوجیوں کوناکوں چنے چبواتے رہے۔

’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘پربھی ماہ ستمبر میں مجاہدین نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔چنانچہ گیارہ ستمبر سے ۴ روز قبل ہی ۷ ستمبر کو مجاہدین نے کوئٹہ میں ایف سی کے بریگیڈیئر کو نشانہ بنا کر دیگر ایک کرنل سمیت بیسیوں صلیبی اتحادیوں کی لاشوں کا تحفہ دیا۔ مذکورہ بریگیڈیئر کی گردن پر نہ صرف خروٹ آباد میں شہید ہونے والے پانچ مسلمانوں کا خون تھا بلکہ حال ہی میں کوئٹہ سے گرفتار ہونے والے شیخ یونس الموریطانی اور اُن کے دو ساتھیوں کی گرفتاری میں بھی اس کا مکروہ کردار شامل تھا۔

اس موقع پر فتح و نصرتِ الٰہی سے ہم کنار ہوتی امت محمدیہ کے ہرفردسے بالعموم اور مسلمانانِ پاکستان سے بالخصوص درخواست ہے کہ دس سالہ صلیبی جنگ کے اس فیصلہ کن موڑ پر ہر شخص دامے درمے سخنے اپنا وزن ایمان کے پلڑے میں ڈالے اور غیر جانب داری اور لاتعلقی کی کیفیت ترک کرکے اپنے مال وجان سے دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لیے اپنا کردار اداکرے۔

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا……

اداریہ: نومبر ۲۰۱۱ء ؍ ذو الحجہ ۱۴۳۲ ھ

’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہو چکی ہوتیں اور جو شخص اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے، بے شک اللہ توانا اور غالب ہے۔‘‘ (سورۃالحج: ۴۰)

 ’’اور اللہ لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن اللہ اہلِ عالم پر بڑا مہربان ہے ۔‘‘(سورۃالبقرہ: ۲۵۱)

بے شک تمام تعریفیں اس اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جس نے اپنے ابدی قانون کے تحت اس بات کا انتظام کیا کہ اس کی زمین فساد سے نہ بھرنے پائے اور اس مقصد کے لیے اللہ رب العزت لوگوں اور قوموں کے مقامات اور حالات بدلتے رہتے ہیں۔ دنوں کی الٹ پھیر کے اس الٰہی انتظام کے مظاہر تاریخ کے اوراق میں جا بجا ملتے ہیں۔روما و فارس کی سلطنتوں کے عروج و زوال سے لے کر خلافتِ اسلامیہ کے قیام و سقوط تک اللہ کا یہی قانون کار فرما نظر آتا ہے۔ابھی گزشتہ صدی میں اشتراکیت کے نام سے انسانیت پر غلامی کی جو سیاہ ترین رات مسلط ہونے کو تھی……رحمت الٰہی نے اسے اپنے مخلص بندوں کے لہوکی ضو فشانی سے دور کر دیا ۔ لیکن اللہ کو شاید اپنے بندوں کی آزمائش مقصود تھی کہ اشتراکیت کی جگہ امریکی قیادت میں یہود کا وضع کردہ سرمایہ دارانہ نظام کرہ ارض پر مسلط ہوگیا۔یوں تو اس نظام نے گزشتہ دو تین صدیوں سے اپنے خونی پنجے انسانیت کی گردن میں گاڑ رکھے ہیں لیکن گزشتہ پچاس سالوں میں اس نظام کے پجاریوں نے کرۂ ارض پر جو فساد اور تخریب برپا کی، اس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔اس دجالی نظام کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے نہ صر ف مادی وسائل بلکہ انسانی سوچ و فکر تک کو اپنے نادیدہ شکنجوں میں جکڑ ے رکھا۔لیکن اللہ قوی و عزیز کی قدرت دیکھیے کہ آج یہ نظام اور اس کے کرتا دھرتا خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود رہے ہیں۔ایک طرف نیویارک سے شروع ہونے والی ’آکو پائی وال سٹریٹ(Occupy Wallstreet)‘ مہم پوری دنیا میں پھیل گئی ہے اور اب تک امریکہ کے ۱۱۹۶ شہروں سمیت دنیا کے متعددشہروں میں استحصال کا شکار لوگ اپنا حق مانگ رہے ہیں، وہیں یورپ کے سب جغادری بھی سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ درپیش سنگین معاشی بحران سے کیونکر نمٹا جائے لیکن کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی۔ بقول اقبال

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا

صلیبی سرمایہ داری کا یہ انجامِ بد بھی اللہ نے اپنے انہی پاک باز اورمخلص بندوں کے ہاتھوں دکھایا ہے جو ہر دور کے اہلِ ایمان کی مانند بے سروسامانی کی حالت میں بھی فقط رب کے بھروسے پر انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کرو ا کر ان کے رب کی غلامی میں دینے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے اور صلیبی صہیونی مفسدین کے بالمقابل ڈٹے رہے۔ان میں سے کئی تو اپنی منزل مراد پا گئے جب کہ بہت سے ابھی اپنی باری کے منتظر ہیں ۔ خلعتِ شہادت سے سرفراز ہونے والو ں میں اس ماہ شیخ انور العولقی اور ان کے ساتھی سمیر خان ، سالم المروانی اور ابو محسن مآربی بھی شامل ہو گئے۔ اللہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے ۔ شیخ انور اور سمیر خان کے بارے میں بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کفر کو اس کے ’ہوم گراؤنڈ‘ یعنی میڈیا کے میدان میں شکست دی اور ائمۃ الکفر کی نیندیں حرام کیں۔انہی شہدا کے خون کی برکت سے اللہ رب العزت اب اپنی رحمت خا ص سے فتح کی خوش خبریوں سے نواز رہے ہیں۔ایک طرف صلیبی فرانس کی فوجوں کا پہلا دستہ افغانستان سے مرحلہ وار انخلاکے پہلے مرحلے سے گزر گیا ہے جب کہ دوسری جانب امریکہ نے اگلے دو ماہ کے اندر عراق سے اپنی ساری فوج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر صومالیہ میں صرف ایک ماہ کے اندر مجاہدین نے چار امریکی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔ایک ماہ میں اتنے ڈرون کی تباہی جہاں نصرت الٰہی اور مجاہدین کی پیش قدمی کا پتہ دے رہی ہے وہیں اس بات کی بھی علامت ہے شکست خوردہ صلیبی اتحادکی امیدوں کا آخری سہارا یہی ڈرون ہی رہ گئے ہیں اوریہ سہارا بھی اِن سے چھِنتا ہوانظر آرہا ہے۔پاکستان کے ساتھ نورا کشتی کے بعد بھی بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ نے ڈرون پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے کیونکہ ’پاک‘ فوج کے ’ستو ‘تو مک گئے ہیں اور وہ امریکہ کو حسب توقع کارکردگی دکھانے سے قاصر ہے۔

بدلتے حالت کا یہ منظر نامہ جہاں اہلِ ایمان کے لیے امیدکا پیغام لیے ہوئے ہے وہیں مصراتہ کے سرد خانے میں پڑ ی معمر قذافی کی لاش دنیا کو فاعتبرو یا اولی الابصار کا درس دے رہی ہے۔ خود پرستی کے خول میں مقید اس شخص نے ۴۲ سال تک لیبیا کے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیے رکھا۔بالخصوص شریعت کا مطالبہ کرنے والوں سے قذافی کے عقوبت خانے بھی ہمیشہ بھرے رہے ۔قذافی کی آنکھوں کے سامنے حسنی مبارک اور زین العابدین ذلیل و رسوا ہوکر رخصت ہوئے لیکن خبطِ عظمت میں مبتلا قذافی نے ان سے بھی سبق نہیں سیکھا…… دراصل تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔چنانچہ آج شام کا بشار الاسد اور یمن کا علی عبداللہ صالح اور پاکستان کے کیانی و زرداری بھی بدلتی رتوں کو پہچاننے سے قاصر ہیں اور کل کو یہ بھی قذافی کی طرح کسی چوراہے میں نشان عبرت بنے نظر آئیں گے۔کیونکہ گردش ایام کا ربانی قانون اپنی گرفت سخت کر رہا ہے۔ اور طرابلس کی عبوری کونسل کے سربراہ کا یہ اعلان کہ ملک کا قانون ’شریعت ‘ ہو گا ،یہ ثابت کرتا ہے کہ امت مسلمہ اب شریعت و خلافت کے زیرِ سایہ آنے کو بے تاب ہے اورجو بھی اس امت کی قیادت کا دعوے دار ہے اسے طوعاً و کرھاًشریعت کی بالا دستی کو تسلیم کرنا ہو گا۔

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا ، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ

 

ہوئے غرقِ دریا زیر ِدریا تیرنے والے

 اداریہ: دسمبر ۲۰۱۱ء ؍ محرم الحرام ۱۴۳۳ ھ

’’اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے ان کودوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دَوڑ دَوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سوقریب ہے کہ اللہ فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایاکرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘

دس برس قبل ’پتھر کے زمانے‘ کا ڈراوا سن کر پاکستانی ریاست نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگانے کا فیصلہ کیا تو اہل ایمان اسی دن سے اللہ کا یہ حکم سنتے اور سناتے تھے کہ یہود ونصاریٰ کی دوستی کا انجام ’خزی فی الدنیا و الآخرۃ‘ کے سوا کچھ نہیں ہو گا،لیکن مادی طاقت کے پجاری، عبادالدینار ……امریکہ کے ڈیزی کٹر بموں سے ڈراتے اور ڈالروں کی برسات کے سہانے خواب دکھاتے تھے۔ آج اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا کہ

ہوئے غرقِ دریا زیر ِدریا تیرنے والے
طمانچے موج کے جو کھاتے تھے بن کر گہر نکلے

نیٹو کے ہیلی کاپٹروں اور جیٹ جہازوں کی بم باری سے ۲۸ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد چہار سو ایک صف ماتم بچھی ہے، ہر طرف سے قومی خود مختاری اورملکی سالمیت کے بین بلند ہو رہے ہیں، آہوں اور سسکیوں کے بیچ کہیں شمسی ائیربیس خالی کروانے اور صلیبی رسد کی بندش کی صدائے غم بھی ایک دفعہ پھر بلند ہوئی ہے، فوجی ترجمان کو یہ بھی یاد ہے کہ گزشتہ ۳ سالوں میں اس طرح کے ۸حملوں میں۷۲ فوجی رزق خاک ہو چکے ہیں،دھیمے سروں میں امریکہ کو ’سنگین نتائج ‘اور ’تعلقات خراب ہونے‘ کے الفاظ بھی سنائے جا رہے ہیں لیکن اس سارے ڈرامے کا کوئی کردار یہ پوچھنے یا بتانے کی توفیق نہیں رکھتا کہ آخر مہمند اور کنڑ کی سرحدی پہاڑیوں پر مرنے والے یہ فوجی اور ۱۶۴۰ میل لمبی ڈیورنڈ لائن پر تعینات ان کے تقریباًڈیڑھ لاکھ بھائی بند کس کی خدمت اور حفاظت پر مامور ہیں؟یہ وہی سپاہ نہیں جو اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ میں صلیبیوں کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہے؟اور اسی خدمت میں پچھلے دس سالوں سے خود بھی اہلِ ایمان کو قتل کر رہی ہے اور چن چن کر، پکڑ پکڑ کفار کے سامنے پیش بھی کر رہی ہے؟یہ وہی لشکر نہیں جس کے مخبر وں کی مدد سے (اسی شمسی بیس سے اڑنے والے )صلیبی ڈرون کم و بیش روزانہ بیسیوں مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں(اور اس وقت سرحدوں کا ’تقدس‘ بھی پامال نہیں ہوتا)؟جس کو اپنا ’روزی رساں اور زندگی کا مالک‘مانتے ہو ، اس نے تمہارے چند فوجی مار دیے تو رونا دھونا کیسا؟ابھی چند دن پہلے ہی تو تمہاری فضائیہ کے سربراہ نے اعترافِ جرم کیا کہ پچھلے تین سالوں میں تمہارے جہازوں نے مسلمانوں کی آبادیوں پر پانچ ہزار پانچ سو (۵۵۰۰) سے زائد فضائی حملوں میں دس ہزار ( ۱۰۰۰۰)سے زائد بم پھینکے ،آخر کس لیے؟ درحقیقت تم نے تو اللہ کو چھوڑکر امریکہ کو اپنا الٰہ بنایا تھا، پس اب روؤمت اور چکھو مزہ کہ بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

مسلمانانِ پاکستان پر مسلط طواغیت اورصلیبیوں کے اتحادی اب ہندوؤں سے جگری یاری کا دم بھی بھرنے لگے ہیں۔جوکام پہلے چھپ چھپا کرہوتا تھا وہ اب لاکھوں مسلمانوں کے قاتل بھارت کوMost Favourite Nation قرار دے کرکھلے بندوں ہوگا۔ اس سے قبل جہادِ کشمیر کو بھی کفار کی خوشنودی کی بھینٹ چڑھا کر مظلوم مسلمانانِ کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جاچکا ہے۔پاکستانی حکمرانوں کی روز افزوں فردِ جرم اہل پاکستان کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ چہرے بدلنے کی بجائے اس طاغوتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد میں مجاہدین فی سبیل اللہ کی پشتی بانی اور نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، اور اس سرزمین کو شریعت محمدی کے نور سے منور کرکے اپنی دنیا و عاقبت کو سنوارنے کا سامان کریں۔

 نئے ہجری سال کے آغاز پر جہاں صلیبی لشکر اور اس کے حورای ’قلوبھم شتیٰ‘اور ’سیھزم الجمع و یولون الدبر‘کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں، وہیں اہل ا یمان کے لیے اللہ کی مدد اور نصرت کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہجری سال ۱۴۳۲ھ میں قائدِجہادمحسن امت شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ ،مبلغِ جہاد شیخ انور العولقی رحمہ اللہ اور دیگر مجاہدین کی شہادتیں امتِ مسلمہ اور مجاہدین کے لیے صدمے کے ساتھ ساتھ ایمان کی مضبوطی کا سبب بنیں اور یقیناًیہ خونِ شہداہی کی برکت ہے کہ چاردانگ عالم سے فتح کی خبریں آرہی ہیں۔ ایک طرف افغانستان میں صلیبی لشکر ایک ایک کر کے پسپائی اختیار کر رہے ہیں اور فرار کے محفوظ راستوں کی تلاش میں کبھی ’لویہ جرگہ‘ اور کبھی ’استنبول کانفرنس‘کا انعقاد کر رہے ہیں ، لیکن ’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا‘کے مصداق صلیبی اتحاد عسکری کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی ہزیمت سے بھی دوچار ہے۔اس پر مستزاد ،گزشتہ دو ماہ میں ہونے والے پے در پے فدائی حملے ہیں جنہوں نے صلیبی افواج اور ان کے حواریوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔دوسری طرف سرزمینِ ہجرت و جہاد صومالیہ میں مجاہدین نے اپنے زیرِ انتظام صوبوں میں شریعت نافذ کرنے کے علاوہ عامۃ المسلمین کی خدمت کا بھی بیڑا اٹھایاہے۔ نفاذِ شریعت کی بادِ صبا کے یہ جھونکے عالمِ کفراور بالخصوص افریقی کفار کے لیے باد سموم ثابت ہوئے، یہی وجہ ہے کہ کینیا ، یوگنڈا ، برونڈی اور ایتھوپیاکی فوجوں نے بیک وقت صومالیہ پر چڑھائی کر دی ہے، حالانکہ اس سے قبل بھی یہ ممالک ’افریکام‘ کے جھنڈے تلے مجاہدین سے شکست کھا چکے ہیں۔مجاہدین نے حملہ آور ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اہلِ ایمان پر جارحیت سے باز رہیں ورنہ اس کا خمیازہ انہیں صرف صومالیہ ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں میں بھی بھگتنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ و ہ فلسطین ، عراق، چیچنیا، کشمیر، الجزائر ،صومالیہ، یمن، پاکستان، افغانستان اور پوری دنیا میں کفار و مرتدین کے خلاف برسرِ پیکار مجاہدین کی نصرت فرمائے اور تمام فتنوں اور آزمائشوں سے ان کی حفاظت فرمائے، آمین۔

تَـمَّـــتْ بِالْخَـــیْر

و آخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین

[1] غازی ملک ممتاز حسین قادری مراد ہیں، جنہیں بعد ازاں راحیل شریف و نواز شریف کی حکومت کے حکم سے پھانسی پر چڑھا کر شہید کر دیا گیا۔